نیٹو افواج کا پاکستان پر حملہ۔ اب تو قومی حمیت و غیریت کا مظاہرہ کریں۔

Nov
27

گزشتہ رات جس طرح نیٹو افواج نے پاکستانی سرحدی حدود کی پامالی کرتے ہوئے ۲۴ اہلکاروں کو شہید اور ۱۳ کو زخمی کردیا گیا۔

یہ ایک طرح سے پاکستان پر براہ راست حملہ ہے،  گو کہ یہ پہلے بار نہیں ہے لیکن اس طرح کا شدید حملہ پہلی بار ہوا ہے،

اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کو صاف اور سخت جواب دینا چاہیے،

آج وزیر اعظم نے افواج پاکستان کے ساتھ سلامتی میٹنگ میں طے کیا ہے کہ نیٹو کی سپلائی بند کی جائے اور شمسی ایئر بیس کو خالی کرنے کے لیے ۱۵ دن کا ٹائم فریم دے دیا ہے، میں وزیر اعظم  کو سلام کروں گا اور ان کی تمام پچھلی کوتاہیاں معاف سمجھوں گا اگروہ اپنے اس اعلان پر مکمل عمل کروا سکے، اور اس کے علاوہ اب اگر اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو بےدریغ سخت جواب دیا جائے انشاءاللہ پوری قوم اور تمام سیاسی پارٹیاں ان کے ساتھ ہونگی،

شمسی ایئر بیس خالی کرنے کی وجہ سے ڈرون بھی ختم ہو جائیں گے لیکن اگر پھر بھی بھولا بھٹکا ڈرون آجائے تو اس کو گرا دیا جائے،

اب وقت آگیا ہے کہ حکومت وقت قومی حمیت اور غیرت کا مظاہرہ کرے۔

اپڈیٹ۔۔۔ لوجی ایک امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ پاکستان پر حملہ امریکی ہیلی کاپٹرز نے کیا، اور کرلو امریکہ کی غلامی ، اور نبھالو امریکہ کی یاری۔

تبصرہ کریں

“ڈاکٹر” عبدالرحمان ملک

Oct
12

“ڈاکٹر” عبدالرحمان ملک

لو جی رحمان ملک صاحب کو جامعہ کراچی نے اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دی۔

ایک ایسا ڈاکٹر جسے قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورۃ ، سورۃ اخلاص بھی یاد نہیں۔

بقول ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ان کو تو جھوٹ بولنے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینی چاہیے،۔

مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ یہاں اس ملک میں ایسے بھی کئی نوجوان ہیں جو کہ ڈگری کی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر یونیورسٹیوں کی فیسز نہ ہونے کی وجہ سے وہ ڈگریاں حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی یونیورسٹیوں کو اتنی توفیق ہوتی ہے کہ وہ ان کو ڈگریاں دے سکے، لیکنایسے کرپٹ سیاستدانوں کو ڈگریاں بندر بانٹ کے تحت دے دی جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کو تمام اعزازی ڈگریوں پر نظر رکھنی چاہیے اور یہ دیکھا جائے کہ جن لوگوں کو ان اعزازات سے نوازا جا رہا ہے کیا وہ لوگ س قابل ہیں؟

اور اس پر کنٹرول کرنا چاہیے۔

دوسری طرح حکومت تو اسی طرح اپنے تمام پیاروں کو کہ جن کے  پاس جعلی ڈگریاں ہیں ان کو اسی طرح اعزازی ڈگریاں دے کر ، ان کا الیکشن لڑنا قانونی بنا دیا جائے گا۔

تبصرہ کریں

جناب حامد کرزئی کا راگ

Oct
01

آج جناب حامد کرزئی کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات بند کر رہا ہے اور صرف پاکستان ہی طالبان سے بات کر سکتا ہے۔

کرزئی صاحب نہایت ہی بچگانہ بات کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ حضور کی یاداشت بہت کمزور ہے، ان کو شاید اپنا ماضی یاد نہیں ، چلیں میں یاد دلاتا ہوں۔

ایک وقت میں افغانستان میں سابقہ سپر پاور روس گھس آیا تھا، اس وقت پاکستان ہی تھا جس نے افغانستان میں عسکری مدد کی، پاکستان کے ہزاروں لوگ افغانستان میں روس کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے، کیوں لڑے وہ روس کے ساتھ، کیا مفاد تھا ان کا؟ کیا مفاد تھا پاکستان کا؟ اور کیا کیا تحائف ملے ہیں ہمیں افغانستان سے؟

روس سے پاکستان کی کوئی لڑائی نہیں تھی، لیکن پاکستان نے پڑوسی اور دوست ہونے کا ناطہ نبھایا اور وہ ہمارے مسلم بھائی بھی ہیں اس لیے پاکستان افغانستان میں افغانستان کی بقا کی جنگ لڑا، جنرل ضیا صاحب اس وقت حکومت پر قابض تھے، انہوں نے امریکہ کی مدد سے افغانستان میں روس کو شکست دی، اور آخرکار ایک سپر پاور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، ذرا سوچئے اگر پاکستان اس وقت افغانستان کے بقا کی جنگ نہ لڑتا تو آج اس کرزئی صاحب کے بچے لال وردی کے غلام ہوتے۔

اور اس افغان ستان کی بقا کی جنگ میں افغانستان نے پاکستان کو بدلے میں کیا تحائف دیے۔

کلاشنکوف کلچر، ہیوئن، افیم، خودکش بمبار، اور اس افغانستاکی بقا کی جنگ کی وجہ سے آج پاکستان کی بقا خطرے میں پڑ چکی ہے۔

لیکن کرزئی صاحب اس وقت بھی اپنے نچانے والے کے اشاروں پر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، وہ ساری تاریخ کو بھلا بیٹھے ہیں،

حضرت کرزئی، اس انکل سام کے اشارے پر ہی  آپ ہم سے پیار بھری باتیں کرتے ہیں اور اسی کے اشارے پر ہی آپ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اور اگر آپ کی روش یہ ہی رہی تو ایک دن یہ ہی آپ کی حکومت کا تختہ الٹ کر کسی اور کو حاکم بنا دے گا،

ذرا سوچئے تو سہی، ذرا ذہن پر زور تو دیں۔

جب افغانستان کی بقا خطرے میں ہو تو پاکستان افغانستان کی خاطر اپنے جوان شہید کروائے اور جب افغانستان کی باری آئے تو وہ اپنے آقا کے اشارے پر پاکستان کے خلاف زہر اگلے؟

کرزئی صاحب کچھ ایسا کر چلیے کہ کل کوئی آپ کا ہاتھ تھامے، ایسا نہ ہو کہ آپ تو ہاتھ اٹھا کر مدد مانگ رہے ہوں لیکن کوئی ہاتھ تھامنے والا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں

پاک امریکہ تعلقات۔ پاکستان کا مستقبل

Sep
30

پاک امریکہ تعلقات آج کل مولن بیانات کے بعد ایک نازک موڑ پر آگئے ہیں، گو کہ آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی و عسکری نمائندگان کی طرف سے جو قرارداد پاس کی گئ اور جو بیانات سامنے آئے ان کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے بہتر یہ ہی سمجھا کہ مولن کے بیانات سے ایک طرح کی لاتعلقی ظاہر کی جائے اور آج امریکہ کی طرف سے جو اعلامیہ آیا ہے اس  میں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستانی حدود کی پامالی نہیں کرے گا، لیکن پاکستان کی حکومت کو اب امریکہ کی انگلی چھڑ کر چلنا سیکھنا ہوگا، ٹھیک ہے امریکہ ایک بڑا ملک ہے اس کے ساتھ تعلقات رکھنے ہونگے لیکن وہ تعلقات دوستانہ اور دوستی کی حد کے اندر ہوں تجارتی تعلقات ہوں، لیکن ان کی انگلی پکڑ کر نہیں چلنا چاہیے،اور اب حکومت پاکستان کو روس کے ساتھ بھی کچھ بہتر تعلقات بنانے چاہیں، خاص طور پر تجارتی تعلقات، اور روس کو پاکستان بحیرہ عرب تک تجارت کا موقع دے جو کہ اس کی بہت بڑی ضرورت ہے جس کے بدلے میں ہمیں روس سے بہت تجارتی منافع ہو سکتا ہے، اور  چین تو ہمارے ساتھ ہے ہی، ہمیشہ ہر مشکل وقت میں چین ہی ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوا ہے اس لیے  پاکستان حکومت کو ڈرنا نہیں چاہیے کہ اگر امریکہ روٹھ گیا تو پاکستان کا کیا ہوگا۔۔۔۔ مریکہ کچھ نہیں کر سکے گا، یہ گیڈر بھبھکیاں ہیں، امریکہ اس وقت بری طرح معاشی طور پر تباہ ہے،افغانستان کی جنگ میں ابھی تک پٹ رہا ہے، اس کے اندر ایسی کوئی ہمت نہیں کہ وہ پاکستن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

اور جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم نے منہ موڑ لیا تو امریکہ ہندوستان سے روابط بڑھا کر ہمارے اور پسلط ہونے کی کوشش کرے گا وہ بھی میرے خیال میں غلطی پر ہیں کیوں کہ اگر خدانخواستہ امریکہ پاکستان میں بیٹھتا ہے تو یہ ہندوستان کے فائدے کا نہیں نقصان کا سودا ہے ، ہندوستان کبھی نہیں چاہے کا کہ اس کا پڑوسی کوئی سپر پاور ہو اس لیے اندرونی طور پر ہندوستان بھی امریکہ کی مخالفت کرے گا  اور ہندوستان روس کا پرانا دوست بھی ہے اس لیے ہندوستان بھی امریکہ کی آنکھ  میں کھٹکتا ہے اور امریکہ  ہندوستان کو استعمال کرنے کی کوشش تو کرے گا لیکن ایک لیول تک۔

اس لیے حکومت پاکستان کو ہمت و شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور امریکہ کو ایک دوست کی حد تک رکھا جائے اس کی غلامی نہ کی جائے۔

تبصرہ کریں

پہلے محرکات دیکھیں پھر فیصلہ کریں

Sep
24


 ابتدائی سکول کی اُستانی نے ایک بچے سے نہایت ہی شفقت اور پیار کے ساتھ سوال پوچھا ؛  مُنے اگر میں تمہیں ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں اور پھر ایک اور بھی سیب دوں تو تمہارے پاس کل کتنے سیب ہو جائیں گے؟بچے نے اپنی انگلیوں پر گن کر اُستانی سے کہا: چار

اتنی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ پوچھے گئے سوال کا غلط جواب ملنے پر اُستانی کے چہرے پر ناگواری کے تأثرات کا ظاہر ہونا تو فطری عمل تھا ہی مگر وہ اپنے ناراضگی کے تأثرات کو بھی چھپائے بغیر نہ  رہ سکی۔اس سیدھے سے سوال کا جواب تین سیب بنتا تھا جو کہ بچہ نہیں بتا پایا تھا۔ 

اُستانی نے یہ سوچ کر کہ شاید وہ اپنا سوال ٹھیک سے نہیں بتا پائی یا پھر وہ بچہ ٹھیک طرح سے اُسکا سوال نہیں سمجھ پایا، اُس نے اپنا سوال ایک بار پھر دہراتے ہوئے بچے سے پوچھا، مُنے میرا سوال غور سے سُنو، اگر میں تمہیں ایک سیب دوں،  پھر ایک اور سیب دوں، اس کے بعد ایک اور بھی سیب دوں تو کل ملا کرتُمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟

بچہ اُستانی کے چہرے پر ناگواری اور غصہ دیکھ چکا تھا، اور اب اُس کی خواہش تھی کہ کسی طرح اپنی اُستانی کے چہرے پر دوبارہ وہی مُسکراہٹ دیکھےجس میں رضا اور شفقت کا احساس ہو۔ بچے نے اس بار زیادہ توجہ اور انہماک کے ساتھ اپنی انگلیوں پر گننا شروع کیا۔ اس بار بچے نے پورے یقین اور بھروسے کے ساتھ کہا؛ ٹیچر-  چار سیب۔

پہلے تو اُستانی کے چہرے پر غصے اور ناراضگی کے محض تأثرات ہی تھے مگر اس بار تو واقعی غصہ اور غضب دکھائی بھی دے رہا تھا۔ اُستانی نے سوچا کہ دو باتیں ہو سکتی ہیں؛ یا تو اُسکا شمار ناکام اور برے اساتذہ میں ہونا چاہیئے جو طلباء کو اپنا پیغام صحیح طریقے سے پہنچانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے یا پھر یہ بچہ انتہائی کند ذہن اور غبی ہے۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اُستانی نے سوچا کہ وہ کیوں نا اپنا سوال بچوں کے کسی اور پسندیدہ پھل کا نام لیکر کرے۔ اس بار اُستانی نے کہا؛ مُنے اگر میں تمہیں ایک سٹرابیری دوں، پھر ایک اور سٹرابیری دوں اور پھر ایک اور سٹرابیری دوں تو تمہارے پاس کل ملا کر کتنی سٹرابیری ہو جائیں گی؟بچے نے ایک بار اپنی انگلیوں پر گنتی کی اور جواب دیا؛ تین۔ اُستانی کے چہرے پر یہ سوچ کر ایک مُسکراہٹ آگئی کہ وہ جس محنت، توجہ اور مُحبت کے ساتھ بچوں کو پڑھاتی ہے وہ محنت ضائع نہیں جا رہی۔مگر اس کے ساتھ ہی ایک خیال یہ بھی آیا کہ  وہ کیوں نا ایک بار پھر اپنا پہلے ولا سوال دوبارہ پوچھ لے۔مُنے کو سٹرابیری کا جواب صحیح دینے پر شاباش دیتے ہوئے  اُس نے اپنا سوال دہرایا؛ مُنے اب اگر میں تم کو ایک سیب دوں، پھر ایک اور سیب دوں اور پھر ایک اور سیب دوں تو کل ملا کر تمہارے پاس کتنے سیب ہو جائیں گے؟

مُنے نے ملنے والی شاباش اور اُستانی کے دوستانہ رویہ سے شہ پا کر قدرے پر جوش طریقہ سے جواب دیا؛ مِس،  چار سیب ۔ اِس بار اُستانی سے برداشت نہ ہو سکا اور اُس نے غصے کو دباتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھا، مجھے بتاؤ کس طرح سے یہ سیب چار بن جائیں گے؟ مُنے نے اُستانی کے درشت رویہ سے سہم کر ڈرتے ہوئے جواب دیا؛ مس ا ٓج صبح میری امی نے بھی مجھے ایک سیب دیا تھا جو میرے بستے میں پڑا ہے  اور اب اگر آپ مجھے تین سیب دینا چاہتی ہیں تو اس طرح سے کل ملا کر میرے پاس چار سیب ہو جائیں گے۔

اس  چھوٹے سے  قصے میں بھی حکمت کی چند باتیں پوشیدہ ہیں  اور وہ یہ ہیں کہ؛

ہمیں چاہیئے کہ کسی بھی معاملے میں اُس وقت تک کوئی حتمی رائے قائم نا کریں جب تک اُس معاملے کے پس منظر اور محرکات کے بارے میں نا جان لیں۔

اپنے خیالات، رویئے اور عقائد کو کم از کم اتنا لچکدار ضرور رکھیں کہ دوسروں کے نقطہ نظر کو قبول کر سکیں۔

دوسروں کے نقطہ نظر کو جان کر کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت غلطیوں کا امکان کم سے کم رہتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے فیصلوں میں دوسروں کے اعتقادات  اور نظریات کو بھی جاننا شروع کر دیا  تو فیصلے جادو کی حد تک صحیح ہونگے۔ آجکل کی نوجوان نسل کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے  تو اور بھی ضروری ہے کہ اُن کے افکار کو جانا جائے جو اُن کے ناپختہ ذہنوں پر  کسی منفی اثر کے باعث ہو سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا قصہ میں اُستانی بچے کے اپنے جواب پر اصرار کا سبب اُسی وقت ہی جان پائی  جب اُس نے بچے سے یہ پوچھا کہ کس طرح یہ سیب تین نہیں چار ہو رہے ہیں۔ اگر آپ بھی کسی کو ایک مخصوص نقطہ  نظر پر مُصر دیکھیں تو کوئی حرج نہیں کہ اُس سے پوچھ ہی لیں کہ وہ کیوں ایسی رائے یا اعتقاد پر یقین کیئے بیٹھا ہے۔ جان لینے کے بعد آپ کو معاملہ آگے بڑھانے میں آسانی رہے گی۔ بلکہ ہو سکے تو ایک بار خود اپنے آپ سے بھی  یہ پوچھ لیا کریں کہ آپ کیوں کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کر رہے ہیں کہ وہ غلطی پر ہے؟ کہیں غلطی پر آپ ہی ناں  ہوں۔

 


 

 

تبصرہ کریں

انگور اور شراب

May
28

 

انگور اور شراب

مشہور شامی مصنف عادل ابو شنب نے اپنی کتاب شوام ظرفاء میں عرب مُلک شام میں متعین فرانسیسی کمشنر کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن دنوں یہ خطہ فرانس کے زیر تسلط تھا اور شام سمیت کئی آس پاس کے مُلکوں کیلئے ایک ہی کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نے اس ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔

اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اُنکی نشست کمشنر کے بالکل آمنے سامنے تھی۔  کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جبکہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر صاحب کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نا پا سکا۔ اپنے ترجمان کو بُلا کر کہا کہ اِس شیخ صاحب سے پوچھے کہ آخر وہ ہماری طرح کیوں نہیں کھاتا؟

شیخ صاحب نے ترجمان کو دیکھا اور نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا؛ تو تمہارا خیال ہے کہ میں اپنئ ناک سے کھا رہا ہوں؟

کمشنر صاحب نے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم چھری اور کانٹے کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟

شیخ صاحب نے جواب دیا؛ مُجھے اپنے ہاتھوں کی صفائی اور پاکیزگی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے، کیا تمہیں بھی اپنے چھری اور کانٹوں پر کی صفائی اور پاکیزگی پر اتنا ہی بھروسہ ہے؟

شیخ صاحب کے جواب سے کمشنر جل  بھن کر رہ گیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ اس اہانت کا بدلہ تو ضرور لے گا۔

کمشنر کی میز پر اُس کے دائیں طرف اُسکی بیوی اور بائیں طرف اُسکی بیٹی بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔

چہ جائیکہ کمشنر عربوں کی ثقافت، روایات اور دینداری سے واقف تھا، مزید براں اُس نے اس ضیافت میں شہر کے معززین اور علماء کو مدعو کر رکھا تھا۔ مگر  ان سب روایتوں کو توڑتے ہوئے اُس نے اپنے لئے شراب منگوائی اور شیخ صاحب کو جلانے کی خاطر نہایت ہی طمطراق سے اپنے لیئے، اپنی بیوی اور بیٹی کیلئے گلاسوں میں اُنڈیلی۔ اپنے گلاس سے چُسکیاں لیتے ہوئے شیخ صاحب سے مخاطب ہو کر کہا؛ سنو شیخ صاحب، تمہیں انگور اچھے لگتے ہیں اور تم کھاتے بھی ہو، کیا ایسا ہے ناں؟

شیخ صاحب نے مختصراً کہا، ہاں،۔

کمشنر نے میز پر رکھے ہوئے انگوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ یہ شراب ان انگوروں سے نکالی  ہوئی ہے۔ تم انگور تو کھاتے ہو مگر شراب کے نزدیک بھی نہیں لگنا چاہتے!

ضیافت میں موجود ہر شخص کمشنر اور شیخ صاحب کے درمیان پیش آنے والی اس ساری صورتحال سے آگاہ ہو چکا تھا۔ سب کے چہروں سے نادیدہ خوف کے سائے نظر آ رہے تھے اور ہر طرف خاموشی تھی۔ مگر اس شیخ صاحب کے نا تو کھانے سے ہاتھ رُکے اور نا ہی چہرے پر آئی مسکراہٹ میں کوئی فرق آیا تھا۔

کمشنر کو مخاطب کرتے ہو ئے شیخ صاحب نے کہا؛ یہ تیری بیوی ہے اور یہ تیری بیٹی ہے۔ یہ والی اُس سے آئی ہوئی ہے۔ تو پھر کیوں ایک تو تیرے اوپر حلال ہے اور دوسری حرام ہے؟

مصنف لکھتا ہے کہ اسکے بعد کمشنر نے فوراً ہی اپنی میز سے شراب اُٹھانے کا حُکم دیدیا تھا۔

 

تبصرہ کریں

جاپانی قوم

Apr
01

تبصرہ کریں

معصوم بچوں اور بیواہ خواتین کے ساتھ ایک پوسٹ مین کا ناروا سلوک۔گزشتہ سے پیوستہ

Mar
16

میں نے آج اس پوسٹ مین کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی ہے۔اور حاضر خدمت ہے۔

یہ ایک پوسٹ مین نہیں ہے بلکہ یہ ایک پوسٹ ماسٹر ہے،  اور اس کے نیچے تین یا چار ملازمین بھی ہیں، جو کہ اس نے نہیں رکھ رکھے اور ان کی تنخواہ بھی یہ حضرت کھا جاتے ہیں۔

میں نے پوسٹ ماسٹر گھوٹکی سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ بندہ بااثر ہے اور  صرف منی آرڈرز ہی وصول کرتا ہے اور پوسٹ ماسٹر کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ اس سے خائف تو ہے لیکن کسی ڈر کی وجہ سے وہ اس کے خلاف کھل کر بات نہیں کر رہا تھا لیکن اس نے اتنا ضرور بتایا کہ یہ بندہ بااثر ہے اور کسی اور کو قادرپور کا پوسٹ ماسٹر مقرر نہیں کرنے دیتا۔

میں ن ےاس سارے معاملے پرمیڈیا سے بھی بات کی تھی ، اور ڈی سی او گھوٹکی کو بھی اطلاع کی تھی لیکن شاید قادرپور کے غریب لوگوں اسپیشلی قادرپور کی بیوہ اور نادار خواتین سے ان کو کوئی ھمدردی نہیں ہے۔

آج میں نے ڈویزنل سپرینٹنڈنٹ پاکستان پوسٹ سے بھی بات کی تھی انہوں نے اس معاملے کو دیکھنے کے لیے کہا تو ہے لیکن میں کہ نہیں سکتا کہ وہ بھی کچھ کریں گے یا نہیں۔

اس سارے مسئلے کی وجہ سے بہت  سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جو کچھ اس طرح ہیں۔

1-قادرپور کے لوگوں کو پاکستان پوسٹ سے آنے والے سب خطوط اور اہم ڈاک گھوٹکی پوسٹ آفیس سے اٹھانی پڑتی ہے

2- قادرپور کی غریب ،بیواہ اور نادار خواتین کو بینظیرانکم، سپورٹ کی مد میں ملنے والی امداد قاردپور اپنے گھر کے بجائے، گھوٹکی کے مین پرائمری اسکول میں سے آکر لینی پڑتی ہے  جو کہ ان کے قصبہ قادرپور سے 20 کلومیٹر دور ہے۔

قادرپور کی غریب ،بیواہ اور نادار خواتین کو بینظیرانکم، سپورٹ کی مد میں ملنے والی امداد آدھی یا آدھی سے بھی کم ملتی ہے۔ 3-

4-اگر یہ بندہ صرف ایک ماسٹر یا ھیڈ ماسٹر کی ڈیوٹی کرے تو پھر اس کی جگہ پوسٹ ماسٹر کسی اور کو رکھا جائے گا اس طرح ایک  فرد کو روزگار ملے گا اور اس روزگار پر ایک اور خاندان پل سکے گا

5-جب قادرپور کی خواتین اس سے اپنے پئسے لینے مین پرائمری اسکول گھوٹکی میں آتی ہیں تو وہاں ہو رہی تعلیم کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے جو کہ ایک قومی نقصان ہے

تبصرہ کریں

معصوم بچوں اور بیواہ خواتین کے ساتھ ایک پوسٹ مین کا ناروا سلوک

Mar
15

گھوٹکی کے مین سندھی پرائمری اسکول میں ایک ھیڈ ماسٹر ہے جو کہ قادرپور کا پوسٹ مین بھی ہے، ایک ہی وقت میں دو سرکاری ملازمتیں ، اس دور میں جب پڑھے لکھے نوجوان سرکاری نوکریوں کے لیے مار ے مارے پھر رہے ہوں وہیں ایک بااثر بندے ک پاس دو دو سرکاری ملازمتیں۔

حکومت لوگوں کو اپنی بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ان بچیوں کو سکالرشپ بھی دیتی ہے، اور یہ حکومت اس لیے کرتی ہے تاکہ لوگ اپنی بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں، اس طرف لوگوں کو راغب کرنے ک لیے حکومت یہ اقدامات کرتی ہے، ۔

اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر بھی خواتین اور اسپیشلی بیواھ خواتین کی امداد بھی کرتی ہے۔

لیکن ان تمام رقوم کی ادائیگی کے لیے حکومت نے پاکستان پوسٹ کے ذریعے منی آرڈر کی صورت میں کی جاتی ہے۔

اب ہوتا یہ ہی کہ پوسٹ مین حضرات اور پوسٹ ماسٹر حضرات ان بیواہ اور معصوم خواتین اور معصوم بچیوں کے پئسوں سے اپنے گھر بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ان معصوم بچیوں اور خواتین  کو ان پئسوں کی آدھی سے بھی کم رقم ملتی ہے۔ ان خواتین میں سے زیادہ تر ان پڑھ ہیں جس کی وجہ سے بھی یہ لوگ ان کو لوٹ لیتے ہیں۔

اور یہ حضرت جو کہ ایک ہی وقت میں پوسٹ مین اور ایک پرائمری اسکول کے ھیڈ ماسٹر ہیں، یہ بھی اس ذلیل کام میں پیش پیش ہیں۔

حکومت خواتیں اور بچیوں کے نام منی آرڈرز اس لیے اشو کرتی ہے تاکہ ان خواتیں اور بچیوں کو ان کے پئسے اان کے ڈور اسٹیپ پر مل سکیں، لیکن یہ حضرت قادرپور کے پوسٹ مین ہیں مطلب ڈاکیے ہیں یہ ان خواتین اور معصوم بچیوں کو گھوٹکی کے پرائمری اسکول میں بلواتے ہیں اور یہ خواتین اور بچیاں قادرپور  جو کہ 15 سے 20 کلومیٹر دور ہے گھوٹکی شہر سے  وہاں سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور تکالیف برداشت کر کے گھوٹکی کے پرائمری اسکول میں پھنچتی ہیں جہاں یہ حضرت ان کو گھنٹوں بٹھائے رکھنے کے بعد ان کو آدھی سے بھی کم رقم دیتے ہیں، اور کئی خواتین کو تو بار بار آنے کے بعد ہی پئسے ملتے ہیں۔

میں ارباب اختیار پوسٹ ماسٹر گھوٹکی، جنرل پوسٹ ماسٹر سکھر زون، ڈی سی او گھوٹکی، ای ڈی او ایجوکیشن گھوٹکی، سپریم کورٹ آف پاکستان اور دیگر حکام سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا معصوم بیواہ خواتین، معصوم بچیوں کو امداد کے نام پر ذلیل مت کریں اور ایسے غیر ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیں۔

میں ساتھ میں میڈیا سے بھی یہ ہی عرض کرتا ہوں کہ اس ناسور کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تبصرہ کریں

گھوٹکی شہر میں ٹریفک کے مسائل

Dec
10

تبصرہ کریں

Comment Ratings plugin provided by online gambling
Google plus one provided by http://online-casino.eu.com/